قرین ، شیطان اور ھمزاد کی حقیقت Qareen Shetan aur Humzad ki Haqeeqat
_____________________________ جادو یا شرکیہ علوم کی ابتدا
جب ابلیس کو اسکے تکبر سزا ملی تو اسے بھی آدم اور حوّا علیہ السلام کے ساتھ دنیا میں بھیج دیا جوں جوں انسانی آبادکاری ہوئی ابلیس انسانوں کو گمراہ کرنے کے لیے نئے ہتھکنڈے اپنانے لگا چونکہ زمین سے سارے جنات کا خاتمہ نہیں ہوا تھا یا یوں کہیں صرف سرکش جنات یا شیاطین کو مارا گیا تھا باقی خدا ماننے والے جنات زندہ تھے ابلیس نے انہیں جنات میں سے جن زادیوں کو ورغلا کر اپنی اولاد یا اپنے شیطان 😈 بڑھائے پھر اس نے نت نئے علوم تیار کیے اس نے انسان کو جادو کی روحانیت جو تاریکی تھی وہ دی اور گمراہ کرنا شروع کیا اس نے خود کو فرشتوں کے قہر سے بچنے کے لیے آگ کا الاؤ روشن کیا کچھ علوم کا ملغوبہ تیار کیا اور کائنات میں میں سب پہلا ھمزاد اپنا موکل پیدا کیا جو ہوبہو اسی کی شکل کا تھا تا کہ وہ اپنے ھمزاد موکل کو استعمال کرے اور اگر کبھی پیغمبر خدا اسے پکڑے تو ابلیس بچ جائے اور ھمزاد قہر و عضب کا شکار ہو جائے
_______________________________________________ اول
اب شیطان یا قرین جس کا زکر قرآن مجید میں ہے وہ تو ھر انسان کہ ساتھ ہے جنات یا شیاطین کے ساتھ قرین یا شیطان یا ھمزاد نہیں ہوتا جو انھیں گمراہ کرے اگر ہوتا تو اسکا زکر قرآن مجید میں ضرور ہوتا جنات شر پسند مخلوق ہیں لیکن اکثریت عبادت گزار بھی ہیں
اس واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ ھمزاد دراصل انسان کی روح کا حصہ ہوتا ہے جس کو کچھ علم استعمال کرتے ہوئے پیدا کیا جا سکتا ہے یہ واقعہ ایک صحابی جن جو ابلیس کی اولاد میں سے ہے اس کا بیان کیا ہوا ہے جس کا نام ہامہ ہے جو آدم علیہ السلام کے دور میں ہی مسلمان ہو گیا تھا
_________________________________________ دوم
اب اگر مان بھی لیں کہ ھمزاد ہے تو شیطان تو شرپسند مخلوق ہے نیکی نہ کرتا ہے نہ کرنے دیتا ہے جبکہ قرآن مجید کی آیات سے مسخر ہونے والا ھمزاد ناجائز کام کر ہی نہیں سکتا۔ اب اپنے زہن سے سوچیئے
خدا نے انسان کیلے ساری کائنات کو مسخر ہونے کے قابل بنایا ہے بشرطیکہ انسان اسکے قابل بنے۔
___________________________________اعتراضات
جنات سے کام لینا شرک ہے جو یہ سوچتے ہیں ان سے ایک سوال ہے کہ شرک تو وہ ہوا کہ انسان اپنے خالق کو چھوڑ کر کسی دوسرے کو معبود بنا لے جسطرح انسان سے مدد لینا شرک نہیں اسی طرح جنات سے مدد لینا بھی شرک نہیں
اس ضمر میں بہت لمبی بحث چل سکتی ہے لہذا جو حقیقت تھی بتا دی اب اپنی عقل سے فیصلہ کر لیں

Comments
Post a Comment