اصلیت و حقیقت ہمزادReality of Humzad


                                    اصلیت و حقیقت ہمزاد

بہت سے عاملین کے نزدیک ھمزاد کی حقیقت ایک جیسی نہیں ہے کچھ کے نزدیک ھمزاد شیطان یا قرین ہے جسکا زکر قرآن مجید میں ہے کچھ کے نزدیک ھمزاد انسان کا جسم لطیف ہے میں نے بہت سے عاملین ھمزاد کی کتب کا مطالعہ کیا ہے اب اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ھمزادقرین یعنی شیطان نہیں بلکہ یہ ھماری روح کا ایک حصہ ہوتا  جسے انگریزی میں محافظ فرشتہ کہتے ہیں ھندو سادھو سنت لوگ اسے چھایا پوروش یا سایہ کا نام دیتے 

جبکہ مسلمان اسے فارسی زبان کے لفظ ھمزاد کا نام دیتے ہیں بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ ھمزاد قابو کیا جاتا ہے جبکہ ھمزاد کو پیدا کیا جاتا ہے جس کے لیے ھندو پنڈت سادھو سنت یا یوگی   اپنی یوگا سے ارتکاز توجہ کے علاوہ جنتر منتر سے اسے پیدا کرتے ہیں جبکہ عیسائی مذہب والے بھی مختلف تنتر منتر استعمال کرتے ہیں جبکہ مسلمانوں میں بہت سے ورد و وظائف اور خدا کے اسما سے اسے پیدا یا قابو کیا جاتا ہے۔


ھمزاد کی طاقت

جس عمل اسم کلام سے ھمزاد کو قابو کیا جائے اس علم یا کلام کی طاقت ھمزاد ہوتے مثلاً اگر ھندو عامل کالا جادو استعمال کرکے ھمزاد کو قابو کرے تو سفلی قسم کا ھمزاد مسخر ہو گا جو صرف برے اور غلط کام ہی کرے گا اگر کوئی اسے نوری وظائف سے قابو کرے گا تو ھمزاد بھی نوری ہوگا اور جائز کام ہی کرے گا اگر نوری علوی ھمزاد سے ناجائز کام کا کہا جائے تو وہ جان سے مار دے گا اس حوالے سے بادشاہ شاہجہان کے دور کا واقع پیش کرتا ہوں۔     

 شاہ جہاں بادشاہ کے عہد کا ایک واقعہ ہے کہ دہلی کے کسی حسن پرست مُلا نے نفس کی اسیری کی خاطر کمال محنت ومشقت کرکسی نہ کسی طریق سے ہمزاد کو تابع کردیا۔ اور حکم دیا کہ روئے زمین میں کسی ایسی دوشیزہ لڑکی کو میرے واسطے بحالا در جو حسن و جمال میں اپنا ثانی نہ رکھتی ہو ھمزاد چلا گیا ۔ اور ملک روم کی بادشاہ زادی کو جب کہ وہ محو خواب تھی۔ پلنگ سمیت اٹھا لایا شیطان بصیرت ملاں نے جو کرنا تھا۔ کیا۔ اور پھر ہمزاد کو حکم دیا کیا اسے جہاں سے لائے ہو وہیں پہنچادو چنانچہ ھمزاد حکم بجا لایا۔ اس کے بعد روز مرہ کا معمول ہو گیا۔ کہ ھمزاد ملاں کی خواہش کے مطابق ہررات شہزادی کو لے آتا اور صبح سے پہلے اسے حکم دیتا کہ سسے چھوڑ آ ھمزاد شہزادی کی حالت دیکھ کڑھتا ملاں اور ھمزاد کے درمیان معاہدہ طے تھا کے وہ ھمیشہ پاک رہے گا چنانچہ ملاں ھر رات پلنگ کے نیچے پانی کا گھڑا رکھ لیتا ایک دن ھمزاد نے شہزادی سے کہا کہ تم اس گھڑے کے پانی کو بہا دینا تا کہ یہ غسل نہ کر سکے شہزادی نی ایسا ہی کیا جب ملاں غسل کی غرض سے اٹھا تو پانی نہ پا کر حصار سے باہر آ گیا ھمزاد نے ناپاک حالت میں پا کر ملاں کو گردن سے پکڑا اور زور شہتیر سے دے مارا اور ملاں کا کام تمام ہوا۔ تو ایسی حالت ہوتی ہے ہمزاد کا ناجائز استعمال کرنے والوں کی ۔

عاملین ھمزاد نے اس بارے میں بہت افواہیں پھیلائی ہوئی ہے کہ ھمزاد ایک بہت ہی خوفناک ھستی ہے جبکہ ایسی بات نہیں ہمزاد انسان کی روح کا ایک حصہ ہے جو کہ کسی بھی طرح سے خوفناک چیز نہیں ہے اکثر عاملین ہمزاد کو قابو کرتے وقت گھبرا جاتے ہیں جس سے یہ انسان پر غالب آجاتا ہے 

اب جب کہ ہمزاد کو قابو کرنے کے بہت سے فوائد ہی فوائد ہیں عمل میں ناکام ہونے کی صورت میں بہت نقصان بھی ہوتے ہیں یہ انسان کو پاگل کر دیتا ہے یہ اس طرح کے نقصان کر دیتا ہے کہ اگر کسی نے رزق میں برکت کےلئے عمل کیا اور ناکام ہوا ھمزاد اس کے روزگار کو ختم کر دے گا 

بغیر پوری معلومات کے یا استاد کی اجازت کے بغیر عمل کرنے رجعت ہو جاتی ہے یعنی عمل خراب ہو جاتا ہے اور عامل اس مخلوق یا موکل یا ھمزاد یا جن کا مسخر ہو جاتا ہے 

یہ ھمزاد کا مختصر سا تعارف تھا 

باقی معلومات دوسرے صفحات پر







Comments

Popular posts from this blog

تسخیر ھمزاد عمل اور ھدایت Taskheer Humzad Amal Aur Hidayat

Mujarib Amal-e-HUMZAD. ھمزاد کے مجرب عمل وظائف