تسخیر ھمزاد عمل اور ھدایت Taskheer Humzad Amal Aur Hidayat




 تسخیر ھمزاد 

                 بزریعہ اسما الہی اور قرآن آیات 

                           تنتر منتر جنتر سے

                           ارتکاز توجہ سے مقناطیسی قوت ارادی سے 

عمل ھمزاد 

 

                  

         تسخیر ہمزاد کے حوالے سے یہ بات جاننا ضروری ہے کہ ہندو جوگی۔   ارتکاز توجہ کے عمل سے ہمزاد مسخر کیا کرتے تھے وہ سیلانی مزاج کے انسان ہوتے تھے اور جنگلوں میں پھرتے رہتے تھے اور آبادی سے دور شورو شغب سے دور رہ کر وہ اپنی مقناطیسی قوت سے اپنی تصور کی قوت سے  ہمزاد مسخر کیا کرتے تھے ایسے میں ھمزاد مہینوں بعد مسخر ہو تا ہے 

                           جبکہ ہندو عاملین پنڈت لوگ ھمزاد کو چھایا پورش کہتے ہیں اور وہ ہمزاد کو قابو میں کرنے کے لئے تنتر منتر جنتر استعمال کرتے ہیں جس سے ہمزاد انسانی کاشکل میں عامل کے سامنے حاضر ہو جاتا ہے ہندو پنڈت کالے جادو کے علاوہ اللہ تعالی کا وہ کلام جو ہندوؤں پر تب نازل ہوا جب اللہ تعالی نے ان پر اپنے پیغمبر بھیجے ۔ہندو پنڈت اس کلام کو استعمال کرتے ہیں جو کہ شرک اور کفر سے بالکل پاک ہے اور اس سے قابو کیا جانے والا ہمزاد بہت طاقتور اور قوی ہوتا ہے چونکہ ہندو مذہب میں بہت سارے خدا ہیں اس لیے وہ لوگ زیادہ تر کالاجادو کا استعمال کرتے ہیں اور اس سے اپنے جنات اور دوسری مخلوقات کو قابو کرتے ہیں قدیم کلام سے وہ ھمزادوں کی پوری فوج مسخر کرتے ہیں کیونکہ وہ بہت زیادہ طاقتور ہوتا ہے ہندو پنڈی دے جو ان پرانے علوم سے آشنا ہیں ہیں وہ اپنی چیزوں میں سے صرف خاص الخاص کو ہیں وہ علم بتاتے ہیں وہ بھی چلے کے کان میں سرگوشی کرکے بتاتے ہیں تو اسے آپ خود ہی سمجھ جائیں کہ ان علوم کو کس حد تک چھپا کر رکھا گیا ہے ہے

                               اب ہم آتے ہیں مسلمانوں کی طرف اپنی طرف مسلمانوں میں موکلات پریوں جنات اور ہمزاد کو قابو میں کرنے کے لیے قرآنی آیات کا سہارا لیا جاتا ہے اس کے علاوہ اللہ کے صفاتی ناموں کا سہارا لیا جاتا ہے ہے ہندو جہاں تک بات ہمزاد کی ہے ہمزاد کو قابو کرنے کے لیے آمین میں بہت سے وظائف اور نقوش مرتب کیے ہیں ہیں جن کا فائدہ یا تو اجازت کے ساتھ ہے یا پھر زکوٰۃ ادا کرنے کے بعد ہوتا ہے ابلیس نے شیطانی علوم کو پھیلانے کے لیے اپنا ہمزاد بنایا تھا بہرحال اگر کسی بھی وظیفے کو پر اثر گھر بنانے کے لیے اس کی زکات ادا کی جاتی ہے ہے مسلم عاملین زکوۃ ادا کرنے کے مختلف طریقے رائج کئے ہیں ہیں جن کے بارے میں مفصل بیان بعد میں کیا جائے گا اگر آپ زکات ادا کرنے کے لیے چالیس دن کی قید ہے اس سے بچنا چاہتے ہیں ہیں تو اپنے علاقے میں کسی ولی اللہ سے یا کسی عمل سے اس علم کی اجازت لے لیں 

                               

            اصل میں زکوٰۃ ادا کرنے سے یعنی بسم اللہ کا وظیفہ پڑھنا ہو تو اس کو 40 دن مخصوص تعداد میں پڑھا جائے گا مکمل پرھیز جلالی و جمالی کے ساتھ تب اس بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے دم سے شفا ملے گی زکوٰۃ ادا کرنے سے اس کلام کے موکلات عامل سے مانوس ہوجاتے ہیں 

یہاں عمل لکھنے سے پہلے جن باتوں کا جاننا ضروری لکھی جا رہی ہیں 


ممنوعات 

    عامل کو عمل ھمزاد کو راز میں رکھنا چاہیے یا صرف اپنے استاد جس سے اجازت لی سے زکر کرنا چاہیے 

    دوران جو بھی نظر ائے اپنے مرشد کو بتائے

    پانچ وقت نماز با جماعت پڑھے 

    گناہوں سے بچے لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا کم کر دے یا بالکل ترک کردے

    ھر عمل ھمزاد میں ترک جلالی و جمالی ترک حیوانات شہوات لازمی 

    یعنی جانوروں سے بننے یا نکلنے والی اشیا نا کھائے نہ پہنے 

    ادرک لہسن اور پیاز نہ کھائے صرف جو کی روٹی یا گندم کی روٹی ساتھ کھجور یا کسی بھی دال کو ابال کر نمک کے ساتھ کھائے عمل ھمزاد میں یہی کھانے کی جازت ہوتی ہے 

    رات کے عمل میں دن کو خوب سوئے اونگھنے سے عمل باطل ہو جاتا ہے

    عمل پر پورا یقین رکھے شک نہ کرے 

    غصہ لالچ حرص سے بچے صدق مقال رزق حلال کا اہتمام کرے اپنے ھاتھ سے کھانا پکائے اور اپنی کمائی سے صدقہ کرے  

    دوران عمل یہ زہن میں رکھے کہ عمل میں کامیابی سے خدا کا شکر کرے گا  

    دل میں اگر یہ بات رکھی کہ عمل میں کامیابی حاصل کر کے کاروبار کروں گا اس میں مدد لوں گا ھمزاد سے تو اگر ھمزاد قابو نہ ہوا تو ساری زندگی کیلئے ناکارہ کر دے گا رزق تنگ کر دے گا 

    ہمہ وقت اسلامی کتابیں پڑھتا رہے 

    جوش جنون سے بچے لوگوں میں نہ جائے دوران عمل پرھیز رکھے


عمل کی تیاری 

فرض کریں اگر آتشی مزاج کا ھمزاد قابو کرنا ہے 

تو اسکے لیے لوازمات مہیا کر لے 

کمرہ آبادی سے دور ہو کوئی دوسرا نہ ہو اس جگہ شور نہ ہو 

چراغ جو پہلے دن استعمال کرے اخیر دن تک وہی رکھے اور سرسوں کا تیل الگ سے عمل کے لیے خریدے 

عمل سے پہلے کوئی چھڑی پاسے رکھے کیڑے مکوڑے دور کرنے کے لیے 

چھت پر عمل نہ کرے 

اس عمل کو پردہ راز میں رکھے اگر لوگوں کو علم ہوا تو لوگ مزاق اڑائیں گے یا تنگ کریں گے صدقہ ضرور دے ھر تیسرے دن 

عمل میں زمان مکان کی پابندی یعنی وقت اور جگہ ایک رہے

دوران عمل ھمزاد فریب دے گا کہ فلاں مرگیا یا گھر میں کوئی مر گیا اس کی پرواہ نہ کرے عمل میں مصروف رہے ایسے فریبوں سے بچے کسی بھی صورت حصار سے باہر نہ نکلے۔


استقلال اور صبر

                اس بات کو زہن میں رکھے عمل شروع کیا تو بیچ میں چھوڑنا نامردی ہے عمل پر کامل اعتماد رکھے کے کامیاب ہو گا  بعض لوگوں کو 6۔ 7ویں دن سے اشکال نظر انے لگتی ہیں جبکہ بعض کم روحانیت کی وجہ سے دو دو مہ تک کچھ بھی نہیں دیکھ پاتے صبر سے کام اگر کچھ نظر نہ ائے تو کم سے کم تین چلے کرے کبھی 41 دن کے عمل میں 40 سکون سے گزر جاتے ہیں کہ عامل سمجھے کے عمل بے کار ہے اور عمل چھوڑ دے جبکہ اکتالیسویں دن پھر ھمزاد پورے جوبن میں آتا ہے    ھر عمل میں خطرات نہیں ہوتے لیکن پرھیز کسی بھی با موکل عمل یہی ہونگے

 

ھمزاد کی اشکال 

             ہمزاد کسی طرح بھی مسخر کیا جائے۔ یہ عامل کی روحانی قوت پر موقوف ہوتا ہے شروع شروع میں ھر کسی کو مختلف تجربات ہوتے اکثر ھفتہ کے بعد سایہ کے کناروں پر نیلی روشنی چمکتی ہے تو بتدریج بڑھتی جاتی ہے پھر سایہ چھلانگیں لگاتا ہےیا دائیں بائیں گھومتا ہے کبھی غائب ہوتا کبھی سامنے آتا ہے۔  جب منزل قریب ہو تو سایہ غائب ہو جاتا ہے اگر عمل جلالی ہو تو خطرناک منظر دیکھنے کو ملتے ہیں یا پھر اگر 21 دن کا عمل ہو تو 14 15 دن بعد سایہ مکمل غائب ہو جاتا ہے اس وقت عامل کو چاہیے کہ اپنے تصور میں اس کا خیال لائے کہ ھمزاد ابھی خاضر ہونیوالا ہے انسانی شکل میں۔

             پھر جب حاضر ہو جائے تو اس سے شرائط طے کرنا چاہیے اکثر نا بلد عاملین کو پورا مہینہ یا پہلے چلے میں کچھ نظر نہیں اتا ایسے میں بد اعتقادی کو دل میں جگہ نہ دے مسلسل عمل کرے کم سے کم تین چلے لازمی کرے۔


عمل کے لیے نا اہل لوگ 

مرگی والا بندہ یا بواسیر کا مریض عمل نہ کرے 

جس شخص کا کقئی عضو معطل ہو یا کٹا ہو۔

حاملہ عورت عمل نہ کرے  زخمی شخص عمل نہ کرے 

کمزور نظر والا بھی عمل نہ کرے 

جس شخص پر آسیب ہو یا جادو کا مریض ہو یا بیمار ہو 

جو شخص کم کھانے پر اکتفا کر سکے سارا دن بولے بغیر رہ سکے  


عمل ھمزاد درج زیل ہیں 

عملیات کی بہت سی کتابیں پڑھی ہیں میں نے ان میں ھمزاد کے عملیات کو پوری صحت کے ساتھ بغیر کسی غلطی جو عمل صد فی صد درست ہیں وہ لکھ رہا ہوں 

دیگر عمل ہمزاد سند

اس عمل کو پڑھتے وقت ٹوپی، کرتا، اور پائجامہ وغیرہ اپنا لباس سب اُلٹا پہنیں۔ یہ عمل رات کے آخری حصہ میں اُس وقت کیا جائے جب دنیا والے سو رہے ہوں۔ پڑھنے والی جگہ پر کوئی دوسرا نہ ہو ۔ روشنی کے لئے چراغ، لالٹین یا لیمپ وغیرہ جلا لیں اور یہ کلام (قيم لا سمح لا هلا مُسب) ایک ہزار نو سو انیس مرتبہ 1919 مرتبہ پڑھیں . تعداد کا بہت خیال رہے۔ اگر تعداد میں کمی بیشی ہو گی تو اثر نہ ہوگا ۔ یہ عمل انیس روز تک پڑھیں۔ خدا نے چاہا تو ہمزاد حاضر ہو گا۔ عمل بالکل صحیح پڑھا جائے کیسی اثر کے تحت دل پر خوف کا غلبہ نہ ہونے پائے ۔ اس میں کھانے پینے کے لئے کوئی پر ہیز نہیںں
یہ عمل تین چار جگہوں پر لکھا دیکھا میں نے
 ھمزاد کے عاملین نے خود یہ عمل اپنی کتب میں لکھا ہے لیکن 
          افسوس کہ اس میں عبارت کو غلط طریقے سے لکھا گیا ہے میں نے بہت ریسرچ کی جس سے اس کی اصل کا مجھے علم ہوا دراصل یہ عمل   حضرت خواجہ حسن نظامی۔ کا آزمودہ ہے جو انہوں نے 1900 عیسوی میں کہیں کیا تھا   زنجانی جنتری میں بھی ہے کاش البرنی میں بھی ہے  خواجہ حسن نظامی صاحب عمل میں ناکام ہوئے تھے ڈر گئے تھے اور چھ 6 ماہ بیمار رہے کہیں لکھا ہے کہ وہ کامیاب ہو گئے تھے حالانکہ یہ جھوٹ پے اگر کامیاب ہو جاتے تو کسمپرسی کی سی زندگی نہ گزارتے 
 میں جو بھی عمل لکھوں گا وہ درست ہو گا کیونکہ میں نے پوری ریسرچ کی ہے

Comments

Popular posts from this blog

Mujarib Amal-e-HUMZAD. ھمزاد کے مجرب عمل وظائف

اصلیت و حقیقت ہمزادReality of Humzad