علم موکلات سفلی علوی Ilam Mokilat Sifli o Ilavi
________________________________موکلات کیا ہیں
خدا ہر چیز سے بے نیاز ہے خدا کائنات کی تخلیق کے حوالے سے فرماتا ہے کہ میں ایک انمول چیز تھا پھر میں نے چاہا کہ میں پہچانا جاوں یہ ایت کا مفہوم ہے اللہ نے کائنات کو بہت وسیع بنایا ہے جس کو سائنس بھی تسلیم کرتی ہے اللہ نے اپنے چار مقرب فرشتے بنائے جن کا نام مندرجہ ذیل ہے
حضرت جبرائیل علیہ السلام
حضرت عزرائیل علیہ السلام
حضرت میکائیل علیہ السلام
حضرت اسرافیل علیہ السلام
چاروں فرشتے اپنے اپنے کاموں کے زمہ دار ہیں یہ فرشتے ایک طرح سے موکلات ہیں جو کام سر انجام دیتے ہیں جو خدا انھیں حکم دیتا ہے
قرآن مجید کے ہر حرف پر ایک فرشتہ یا موکل یا چیز ہے جو پڑھنے والے کو شفا دیتی ہے موکل کے معنی معاون کے ہیں جو مددگار ہو اللہ اس نظام کو مسب بالا اسباب بنایا ہے
لفظ موکل عاملین کی ڈکشنری میں استعمال ہوتا ہے یا عدالت میں وکیل جسکی پیروی کر رہا یو عاملین کے نزدیک موکلین کی پانچ قسمیں ہے
موکل علوی یا نوری جلالی
مؤکل علوی یا نوری جمالی
موکل سفلی جلالی
مؤکل سفلی جمالی
موکل قدسی۔
کچھ لوگ جنات کو موکل مانتے ہیں حالانکہ جنات جنات ہوتے ہیں موکل جنات سے طاقتور ہوتے ہیں ہر موکل کے نیچے ہزاروں جنات تابع ہوتے ہیں حالانکہ انسان آزاد ہے لیکن طاقت کے باوجود جنات موکلین یعنی فرشتوں کے غلام یوتے ہیں ایسا کیوں ہے اسکی وجہ خدا کے علم میں ہے
موکل علوی یا نوری جلالی و جمالی
مسلمان پابند شرع قابو کر سکتے ہیں یہ بہت طاقتور ہوتے ہیں جنات یہ شیطانی موکل ان سے دور بھاگتے ہیں اکثر عامل ان کو قابو کرکے کام نکالتے ہیں
موکل سفلی جلالی و جمالی
ان موکلین کو کوئی بھی محنت کرکے قابو کر سکتا ہے کیونکہ یہ شرکیہ علوم سے قابو ہوتے ہیں ان کو دوسرے وظائف سے بھی قابو کیا جا سکتا ہے
موکل قدسی
یہ موکل کی سب سے طاقتور قسم ہے جن کو اللہُ تعالیٰ کا خاص نیک ولی بندہ ہے قابو کر سکتا ہے یا یہ خود ہی ایسے سے مانوس ہو جاتے ہیں بغیر قابو کیے یہ فرشتوں کی قوی اور جری قسم ہے
موکلات کی دنیا کی بھی ایک الگ قانون اور قاعدہ کت تحت چلتی
ہے ھماری سائنس سے زیادہ وسیع روحانی دنیا کی سائنس ہے
عاملین اپنی مرضی اور ضرورت کے لحاظ سے موکل بنا کر ان کو مسخر کرتے ہیں اس کا بھی ایک فن ہے موکلات بنانا قابو کرنا کوئی نیا علم نہیں بلکہ صدیوں پرانا علم ہے جب انٹریٹ موبائل وغیرہ سائنس نہیں تھی تو ان علوم کو کثرت سے استعمال کیا جاتا ریا پھر وقت کے ساتھ ساتھ انقلاب آیا اور اب ھم مادیت پرستی میں ہیں
قدیم ھندو مذہب میں ایسے کلام منتر جو شرکیہ نہیں ہیں کو استعمال کر کے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو مسخر کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے لیے کسی ھندو پنڈت جو ان پاک منتروں کا عامل ہو کی مدد درکار ہوتی ہے میرے ایک جاننے والے کے پاس ان علوم کا عمل تھا یہ بہت پہلے کی بات ہے ھندو دھرم میں یر کوئی کالاجادو استعمال نہیں کرتا۔۔۔
Comments
Post a Comment